MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ڈوبا ہے کہاں میرے مقدر کا ستارا

ڈوبا ہے کہاں میرے مقدر کا ستارا
بجلی کابھی ماراہوں میں پانی کابھی مارا

آٹانہیں ملتا نہ ملے مفت کی کھاؤ
اپنا بھی کئی دن سے ہوا پر ہے گزارا

بندوں کو پکڑواکےلگیں ہاتھ جو ڈالر
ہے ایسی تجارت میں مسلماں کا خسارا

ڈالرپہ مچاشورتوبولےیہ مشرف
آواز سگاں کم نہ کند رزق گدارا

نزلےکی طرح جم کےجو بیٹھی ہے برائے
اے اہل وطن لیجے دعاؤں کا بھپارا

"دنیا کوہےپھرمعرکہ روح بدن پیش”
تہزیب نے پھر اپنےدرندوں کو ابھارا

"حاصل کسی کامل سے یہ پوشیدہ ہنر کر "
عاصی ترےاطفال بھی ہوائیں گےبارا

مرزا عاصی اختر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم