MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کوئی منظر سبز اور شاداب آنکھوں میں نہیں

کوئی منظر سبز اور شاداب آنکھوں میں نہیں
جز خزاں کچھ بھی مری بے خواب آنکھوں میں نہیں

دیکھتی جاتی ہوں اس کو ڈوبتی جاتی ہوں میں
کون یہ کہتا ہے کہ گرداب آنکھوں میں نہیں

کس طرح آخر کٹے گا تیرگی کا یہ سفر
ہاتھ میں سورج نہیں مہتاب آنکھوں میں نہیں

پانی بھل بھل بہہ رہا ہے کس طرح حیران ہوں
گرچہ کوئی جھیل یا تالاب آنکھوں میں نہیں

سب مسافر جا چکے سب عکس پتھر بن گئے
کوئی بھی تو ان مری پایاب آنکھوں میں نہیں

پڑھ رہی ہوں میں کتاب وصل کتنی دیر سے
شکر ہے اب فرقتوں کا باب آنکھوں میں نہیں

جسم رفعت تھک چکا جلتی نگاہیں بجھ گئیں
اب تو کچھ بھی دیکھنے کی تاب آنکھوں میں نہیں

رفعت وحید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم