MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کہتے ہیں آنے کو وہ آئیں نہ آئیں دیکھیے

کہتے ہیں آنے کو وہ آئیں نہ آئیں دیکھیے
شوق میں کب تک ہمیں رستا دکھائیں دیکھیے

جانے دو مجھ پر جفاؤں پر جفائیں دیکھیے
مجھ سے بھی ہونے لگیں گی اب خطائیں دیکھیے

ابتدائے عشق میں کیا کچھ ہوئے مجھ پر ستم
آگے آگے کیا پڑیں سر پر بلائیں دیکھیے

آج اون سے گفتگوئے وصل پھر کرنے کو ہوں
آرزوئیں رائیگاں ہوں یا بر آئیں دیکھیے

وصل میں اغماض کرنا آپ ہی کر لیں خیال
پھر مری خواہش پہ بیگانہ ادائیں دیکھیے

ہم نفس ہیں میں ہوں قسمت آزما امیدوار
کس کو تنہا پاس اپنے وہ بلائیں دیکھیے

امتحاں نظروں میں کر لو پھر وفا کھل جائے گی
میری الفت دیکھیے اپنی جفائیں دیکھیے

دل پھرا ہے ان کی خو سے اس قدر اپنا ندیم
وہ بلائیں ہم کو ہم جائیں نہ جائیں دیکھیے

روکھے روکھے بولتے ہو یہ کوئی انداز ہے
رنگ الفت کو مٹا دیں گے ادائیں دیکھیے

ان سے کرنے جاتے ہیں راقمؔ تقاضا وصل کا
شاد ہو کر آئیں یا ناشاد آئیں دیکھیے

راقم دہلوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم