MOJ E SUKHAN

آلام روزگار کو آساں بنا دیا

آلام روزگار کو آساں بنا دیا
جو غم ہوا اسے غم جاناں بنا دیا

میں کامیاب دید بھی محروم دید بھی
جلوں کے اژدہام نے حیراں بنا دیا

یوں مسکرائے جاں سی کلیوں میں پڑ گئی
یوں لب کشا ہوئے کہ گلستاں بنا دیا

کچھ شورشوں کی نذر ہوا خون عاشقاں
کچھ جم کے رہ گیا اسے حرماں بنا دیا

کچھ آگ دی ہوس میں تو تعمیر عشق کی
جب خاک کردیا اسے عرفاں بنا دیا

کیا کیا قیود دہر میں ہیں اہل ہوش کے
ایسی فضائے صاف کو زنداں بنا دیا

اک برق تھی ضمیر میں فطرت کے موجزن
آج اس کو حسن و عشق کا ساماں بنا دیا

وہ شورشیں ، نظام جہاں جن کے دم سے ہے
جب مختصر کیا ، انہیں انساں بنا دیا

ہم اس نگاہ ناز کو سمجھے تھے نیشتر
تم نے تو مسکرا کے رگ جاں بنا دیا

بلبل بہ آہ و نالہ و گل مست رنگ و بو 
مجھ کو شہید رسم گلستاں بنا دیا

کہتے ہیں اک فریب مسلسل ہے زندگی
اس کو بھی وقف حسرت و حرماں بنا دیا

عالم سے بے خبر بھی ہوں عالم میں بھی ہوں 
ساقی نے اس مقام کو آساں بنا دیا

اس حسن کاروبار کو مستوں سے پوچھئیے
جس کو فریب ہوش نے عصیاں بنا دیا

اصغر گونڈوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم