MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہمیں جو صبح کا منظر دکھائی دیتا ہے

ہمیں جو صبح کا منظر دکھائی دیتا ہے
کسی کی شام کے اندر دکھائی دیتا ہے

یہ کیسی ضد ہے کہ اندر سے بھی وہی نکلے
وہ ایک شخص جو باہر دکھائی دیتا ہے

ہمیں بس ایک ہی الجھن نے مار ڈالا ہے
جو وہ نہیں ہے تو کیونکر دکھائی دیتا ہے

عجب نہیں ہے، نمایاں ہے اپنی فطرت میں
وہ ایک شخص جو ہٹ کر دکھائی دیتا ہے

وہ ایک چہرہ جو ہم کو نظر نہیں آتا
سفر میں ہم کو برابر دکھائی دیتا ہے

اسی نظر سے کوئی مجھ کو دیکھتا ہوگا
مری نظر کو جو گھر گھر دکھائی دیتا ہے

ہم اس لئے بھی نہ نزدیک آسکے عابدٓ
کہ ہم کو دور سے بہتر دکھائی دیتا ہے

عابد رشید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم