ہمیں جو صبح کا منظر دکھائی دیتا ہے
کسی کی شام کے اندر دکھائی دیتا ہے
یہ کیسی ضد ہے کہ اندر سے بھی وہی نکلے
وہ ایک شخص جو باہر دکھائی دیتا ہے
ہمیں بس ایک ہی الجھن نے مار ڈالا ہے
جو وہ نہیں ہے تو کیونکر دکھائی دیتا ہے
عجب نہیں ہے، نمایاں ہے اپنی فطرت میں
وہ ایک شخص جو ہٹ کر دکھائی دیتا ہے
وہ ایک چہرہ جو ہم کو نظر نہیں آتا
سفر میں ہم کو برابر دکھائی دیتا ہے
اسی نظر سے کوئی مجھ کو دیکھتا ہوگا
مری نظر کو جو گھر گھر دکھائی دیتا ہے
ہم اس لئے بھی نہ نزدیک آسکے عابدٓ
کہ ہم کو دور سے بہتر دکھائی دیتا ہے
عابد رشید