Yaar Aaya Tha Shab Suhaani Main
غزل
یار آیا تھا شب سہانی میں
موڑ آیا تھا پھر کہانی میں
عکس محبوب کا لگا مجھ کو
چاند آیا نظر جو پانی میں
چھوڑ کر وہ چلا گیا پردیس
خط جو رکھے تری نشانی میں
ٹھیک نیت نہیں تھی اس کی جو
عمر گزری تھی بدگمانی میں
یاد تیری ستائے کیسے کہوں
"آگ لگتی نہیں ہے پانی میں”
اب بڑھاپے کے ہیں نشاں لیکن
خوبصورت تھے ہم جوانی میں
اب تو معصوم بھی بہت خوش ہے
جب سے آئے ہو زندگانی میں
انعام الحق معصوم صابری
Inam Ul Haq Masoom