MOJ E SUKHAN

یوں بھلا تم پر سجا کب آئنے میں دیکھنا

یوں بھلا تم پر سجا کب آئنے میں دیکھنا
رات آنکھوں میں کٹے تب آئنے میں دیکھنا

کیسے کیسے منظروں کے عکس ہیں ان میں نہاں
اپنی آنکھیں سوچنا جب آئنے میں دیکھنا

کیسے کیسے رنگ ہیں تنہائی کی تصویر میں
جب کبھی فرصت ملے تب آئنے میں دیکھنا

تم کبھی پتھر کی مورت تھے مگر اب پھول ہو
اپنی تبدیلی کا مطلب آئنے میں دیکھنا

سامنے کے منظروں سے ہٹ چکا گرد و غبار
کس کا کیسا عکس ہے اب آئنے میں دیکھنا

خود پرستی کی تہوں میں ایک بے چہرہ وجود
کھل گیا سلمانؔ کل شب آئنے میں دیکھنا

سلمان صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم