MOJ E SUKHAN

نفی میں شائبہ اثبات کا موجود رہتا ہے

نفی میں شائبہ اثبات کا موجود رہتا ہے
خدا کو رد کریں تب بھی خدا موجود رہتا ہے

جہاں میں یوں تو روزانہ کئی آتے ہیں جاتے ہیں
جو دل میں بس گیا ہو وہ سدا موجود رہتا ہے

سفر نامختتم ہے یہ کہ مجھ میں اور منزل میں
کوئی رفتار بھی ہو فاصلہ موجود رہتا ہے

اکائی ڈھونڈنے نکلے تھے لیکن یہ کھلا ہم پر
کہ ہر وحدت میں کوئی دوسرا موجود رہتا ہے

فنا کیا ہےکہ مر جاؤں تو پھر بھی میرے ذروں کی ؟
تہوں میں زندگی کا سلسلہ موجود رہتا ہے

رفعت وحید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم