MOJ E SUKHAN

یہ زندگی مرا ہونا بتا رہی ہے مجھے

یہ زندگی مرا ہونا بتا رہی ہے مجھے
نیا لباس پہن کر ستا رہی ہے مجھے

کسی نے بات گھمائی تھی دیکھ کر مجھ کو
وہ بات میری ہی جانب چلا رہی ہے مجھے

شکست جس کو سمجھتا رہا شکست وہ ہی
مرے حضور محبت سے لا رہی ہے مجھے

یہ تم نہیں ہو تو پھر کون ہے پتہ تو کرو
جو میری قبر میں پانی پلا رہی ہے مجھے

ہوا کے پاؤں میں زنجیرڈال دی اس نے
وہ جانتا تھا یہ اونچا اڑا رہی ہے مجھے

سجے گا مصر کا بازار آج کاغذ پر
کسی کی کیونکہ بہت یاد آ رہی ہے مجھے

لگا کے وقت کی دیوار سے مجھے قسمت
وہ دیکھو ہنس کے انگوٹھا دکھا رہی ہے مجھے

ملے تو پوچھوں گا اے زندگی تو کس کے لیے
ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا رہی ہے مجھے

میں جانتا ہوں کسی دل کی سر پھری خواہش
بدن کی گلیوں میں اب تک گھما رہی ہے مجھے

لبِ حیات مقفل ہے اور بلائے جاں
سنا ہے موجِ نسیمی بلا رہی ہے مجھے

نسیم شیخ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم