MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

 یہ کس مہم پر چلے تھے ہم جس میں راستے پر خطر نہ آئے

 یہ کس مہم پر چلے تھے ہم جس میں راستے پر خطر نہ آئے
ہمیں نوازا نہ وحشتوں نے ہمیں جنوں کے ہنر نہ آئے

مجھے بہت تیز دھوپ درکار ہے محبت کے اس سفر میں
چمکتے سورج کو سایہ کرنے کوئی گھنیرا شجر نہ آئے

اندھیری شب کا یہ خواب منظر مجھے اجالوں سے بھر رہا ہے
یہ رات اتنی طویل کر دے کہ تا قیامت سحر نہ آئے

جہاں ہوں تیری ہی رونقیں اور ترے نظارے ہی چاروں جانب
اس انجمن کا پتا بتا دے جہاں سے میری خبر نہ آئے

جو لوٹ آئے کوئی سفر سے تو پھر مسافر کہاں ہوا وہ
وہی مسافر ہے جو سفر میں ہے اور کبھی لوٹ کر نہ آئے

وہ آسمانوں میں رہنے والا سنے گا اک دن علیناؔ تیری
صدا کو اپنی بلند رکھ تو دعا میں جب تک اثر نہ آئے

علینا عطرت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم