MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ستاروں کے پیام آئے بہاروں کے سلام آئے

ستاروں کے پیام آئے بہاروں کے سلام آئے
ہزاروں نامہ ہائے شوق اہل دل کے کام آئے

نہ جانے کتنی نظریں اس دل وحشی پہ پڑتی ہیں
ہر اک کو فکر ہے اس کی یہ شاہیں زیر دام آئے

اسی امید میں بیتابی جاں بڑھتی جاتی ہے
سکون دل جہاں ممکن ہو شاید وہ مقام آئے

ہماری تشنگی بجھتی نہیں شبنم کے قطروں سے
جسے ساقی گری کی شرم ہو آتش بہ جام آئے

کوئی شاید ہمارے داغ دل کی طرح روشن ہو
ہزاروں آفتاب اس شوق میں بالائے بام آئے

انہیں راہوں میں شیخ و محتسب حائل رہے اکثر
انہیں راہوں میں حوران بہشتی کے خیام آئے

نگاہیں منتظر ہیں ایک خورشید تمنا کی
ابھی تک جتنے مہر و ماہ آئے نا تمام آئے

یہ عالم لذت تخلیق کا ہے رقص لافانی
تصور خانۂ حیرت میں لاکھوں صبح و شام آئے

کوئی سردارؔ کب تھا اس سے پہلے تیری محفل میں
بہت اہل سخن اٹھے بہت اہل کلام آئے

علی سردار جعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم