MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کبھی نہ آئی تھیں پیچیدہ ساعتیں اتنی

کبھی نہ آئی تھیں پیچیدہ ساعتیں اتنی
دل اتنا الجھا ہوا اور فرصتیں اتنی

ذرا سمٹ کے میں بیٹھا تو یہ بھی حیرت ہے
گھر اتنا تنگ ہے اور گھر میں صورتیں اتنی

غموں سے بھاگوں غموں میں پناہ بھی ڈھونڈوں
کس آرزو کی سزا ہیں‌ ضرورتیں اتنی ؟

نہیں ہے وقت کو اگلے سے حوصلوں کا یقین
اگر میں سہہ کے دکھا دوں مشقتیں اتنی

کھلے تھے میرے ہی رخ پر ہنر کے اتنے رنگ
سجیں گی میرے ہی تن پر جراحتیں اتنی

جسے بھی میرے سے طولِ سفر کا دعویٰ ہو
وہ آئے اور بڑھائے مسافتیں اتنی

سب آسمان و زمیں گرد ہو گئے محشر
قریب ہو گئیں مجھ سے قیامتیں اتنی

محشر بدایونی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم