MOJ E SUKHAN

یہی سلوک مناسب ہے خوش گمانوں سے

یہی سلوک مناسب ہے خوش گمانوں سے
پٹک رہا ہوں میں سر آج کل چٹانوں سے

ہوا کے رحم و کرم پر ہے برگ آوارہ
زمین سے کوئی رشتہ نہ آسمانوں سے

میں اک رقیب کی صورت ہوں درمیاں میں مگر
زمیں کی گود ہری ہے انہی کسانوں سے

وہ دور افق میں اڑانیں ہیں کچھ پرندوں کی
اتر رہے ہیں نئے لفظ آسمانوں سے

ہر اک زبان دریچہ ہے خانۂ جاں کا
سو مجھ کو پیار ہے دنیا کی سب زبانوں سے

شبنم رومانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم