MOJ E SUKHAN

جان ہم تجھ پہ دیا کرتے ہیں

جان ہم تجھ پہ دیا کرتے ہیں
نام تیرا ہی لیا کرتے ہیں

چاک کرنے کے لیے اے ناصح
ہم گریبان سیا کرتے ہیں

ساغرِ چشم سے ہم بادہ پرست
مئے دیدار پیا کرتے ہیں

زندگی زندہ دلی کا ہے نام
مردہ دل خاک جیا کرتے ہیں

سنگِ اسود بھی ہے بھاری پتھر
لوگ جو چوم لیا کرتے ہیں

کل نہ دے گا کوئی مٹی بھی انہیں
آج زر جو کہ دیا کرتے ہیں

تیرا کیا ذکر مرے داغوں سے
مہر و مہ کسبِ ضیا کرتے ہیں

خط سے یہ ماہ ہیں محبوبِ قلوب
سبزے کو مہر گیا کرتے ہیں

ملتے ہیں تلووں سے گلگشت میں گل
زر کو وہ خاک کیا کرتے ہیں

اُن سے ہیں مخفیِ عصیاں بہتر
جو عبادت میں ریا کرتے ہیں

دفن محبوب جہاں ہیں ناسخؔ
قبریں ہم چوم لیا کرتے ہیں

(شیخ امام بخش ناسخؔ)

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم