MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

خود کو برباد رکھیں تجھ کو سنوارے جائیں

Khud ko Barbaad Rakhain Tujh ko Sanwary Jaaeen

غزل

خود کو برباد رکھیں تجھ کو سنوارے جائیں
زندگی کیا تجھے ہم یوں ہی گزارے جائیں

یہ تو طے ہے کہ وہ اب لوٹ کے آئے گا نہیں
چاہے اب لوگ اسے جتنا بھی پکارے جائیں

جب تیری یاد کبھی دل کو ستاتی ہے بہت
جی یہ کرتا ہے سمندر کے کنارے جایئں

تو سر بزم کسی اور کو دیکھے اور ھم
نظروں نظروں میں تری نظر اتارے جائیں

جیت تو آپ کا پیدائشی حق ہے صاحب
اور ھم جیت کے بھی جنگ میں ہارے جایئں

ہم تو دشمن سے بھی نفرت نہیں کرتے روحی
کیا خبر ہم اسی پاداش میں مارے جائیں

ریحانہ روحی

Rehana Roohi

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم