MOJ E SUKHAN
No Record Found
جب بھی بارش ہوتی ہےبھیگی رت میں دل والوں کیاک ہی خواہش ہوتی ہے
عظمی جون
مرے نارسا تصور نے سراغ پا لیا ہے
خرد میں مبتلا ہے سالکؔ دیوانہ برسوں سے
پہلی بازی ہے آخری ہے میاں
تنویرؔ مفلسی میں بھی کتنا عظیم ہے
ہے یہی التجا اداسی میں
شرح غم ہائے بے حساب ہوں میں
ظالم سے مصطفیٰ کا عمل چاہتے ہیں لوگ
یہ عطا بھی ہے ساقی واہ کیا نرالی ہے
بڑے غضب کا ہے یارو بڑے عذاب کا زخم
آتش دلِ زار میں لگائی اس نے رباعی
تھا ہم سے بھی ربط یا کہ نہ تھا
جب سے وہ گئے ادھرنہیں یاد کیا رباعی
یہ حکم خدا کا کہ قطرہ مے کا نہ پیوں – Ye
مومن لازم ہے وضع مرغوب بنے
رباعیات حکیم عمر خیام نیشا پوری
کیا تیری جدائی میں ستم دیکھتے ہیں رباعی امیر مینائی
غائب بہت اے جان جہاں رہتے ہو رباعی امیر مینائی
باغوں میں جو قمریاں ہیں سب مٹی ہیں رباعی قلندر
سب ستارے لٹا دیۓ میں نے
ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں
ہوائے تیز ترا ایک کام آخری ہے
اک چراغِ آرزو پھر سے جلانا ہے مجھے
عشق جب تک جان و دل کا رہنما ہوتا نہیں
رازداں ہم نے بنایا آپ کو
جرم الفت کی سزا دینے لگے
از رہِ التفات بنتی ہے
میں نے تو درد کو سینے میں چھپا رکھا ہے
سنو اے باوفا لڑکے
تمہاری خاطر نقاب اوڑھوں نہ گھر سے نکلوں
تیرے جانے سے کچھ نہیں بدلا
ہو نے سر جو بدلا ہے
ادھر ادھر کی نہ تم سنانا بچھڑنے والے بتا کے جانا
آجکل دل کا عجب حال ہوا ہے جاناں
جا ترے بس میں نہیں یار محبت کرنا
نظم ہونے لگی
سنو میں مان لوں کیسے تمہیں مجھ سے محبت ہے