MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کوئی دریا ہے نہ دیوار کھڑی ہے لیکن

کوئی دریا ہے نہ دیوار کھڑی ہے لیکن
بیچ میں ایک صدی آن پڑی ہے لیکن

آنکھ صحرا کی طرح خشک سہی اندر سے
سات ساون سے مسلسل ہی جھڑی ہے لیکن

وہ جو کہتا ہے مجھے ہجر نہیں ہے لاحق
بات کچھ بھی یہ نہیں بات بڑی ہے لیکن

تین دیواروں پہ گزرے ہوئے موسم کے نشاں
چوتھی دیوار پہ آویزاں گھڑی ہے لیکن

دن کو سورج کے مقابل نہیں ٹھہری سچ ہے
یہ ہوا رات چراغوں سے لڑی ہے لیکن

کوئی سایہ کوئی اشجار نہیں ہیں رہ میں
دھوپ کے ساتھ مسافت بھی کڑی ہے لیکن

رات کے گھاؤ نے ہر درد سمیٹا خود میں
اک نشانی سر افلاک جڑی ہے لیکن

زنگ نے اور کیا زہر سے آلودہ اسے
گڑیا کے سینے پہ سوئی وہ گڑی ہے لیکن

ڈاکٹر شاہدہ دلاور شاہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم