MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یہ جو راستے ہیں لہو لہو ہے انہی میں عشق کی آبرو

یہ جو راستے ہیں لہو لہو ہے انہی میں عشق کی آبرو
کہیں تا جدار ہیں دربدر کوئی سر کٹا کے ہے سرخرو

ہے سلام انکو جو ڈٹ گئے، وہ جو حق کی راہ میں کٹ گئے
ہیں جہاں بھی حق کے علم اٹھے، وہاں کر بلائیں چہار سو

ہیں یزید آج بھی تخت پر، لئے اپنے نیزوں پہ تشنہ سر
وہی کوفہ اور وہی راہزن، وہی کربلا ہے وہی لہو

یہ حیات بعد حیات ہے یہ حسینیت کا ثبات ہے
یہاں ہوں گے وہ ہی تو سرخرو ہیں لہو سے اپنے جو باوضو

ہے یہی پکارتی ہر صدی، ہوں غمِ حسین کی میں صدی
ڈھلے کیسے شامِ الم بھلا، ہیں کئی فرات لہو لہو

عابد رشید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم