MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

روشنی گو کسی کی دی ہوئی ہے

روشنی گو کسی کی دی ہوئی ہے
چاند نکلا تو چاندنی ہوئی ہے

ہوش میں پھر سے آگئی دنیا
رات بھر یوں لگا کہ پی ہوئی ہے

مدتوں بعد آج میں سنورا
یوں لگا زندگی نئی ہوئی ہے

ایک پل میں وہ کھل گیا ہم پر
جس سے پل بھر ہی دوستی ہوئی ہے

ایسا لگتا ہے آخری حسرت
اس کے دل میں کہیں چھپی ہوئی ہے

آئنہ صاف ہو بھی تو کیا ہو
گرد سی ذہن پر جمی ہوئی ہے

ڈھل چکا ہے وہ آفتاب مگر
چھت مری آج تک تپی ہوئی ہے

دھول بیٹھی نہیں ہے سالوں سے
آنکھ جس راہ پر جمی ہوئی ہے

اگلی نسلوں کے واسطے ہے وہ
بات عابد کی جو کہی ہوئی ہے

عابد رشید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم