MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہزار رنج ہو دل لاکھ درد مند رہے

ہزار رنج ہو دل لاکھ درد مند رہے
خیال پست نہ ہو حوصلہ بلند رہے

غم فراق میں دل کیوں نہ درد مند رہے
بہار آ کے گئی ہم قفس میں بند رہے

خدا کی یاد میں دنیا کو بھول جا اے دل
وہ کام کر کہ ہر اک طرف سود مند رہے

ملے کہ کچھ نہ ملے مانگنے سے کام رکھوں
تری جناب میں دست دعا بلند رہے

دکھائیں گردش دوراں نے صورتیں کیا کیا
مگر مجھے تو اکیلے تمہیں پسند رہے

غرور حسن انہیں انکسار شیوۂ عشق
وہ بے نیاز رہے ہم نیاز مند رہے

جناب شیخ بھی مخمورؔ شب کو رندوں میں
عجیب حال سے مصروف وعظ و پند رہے

مخمور دہلوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم