MOJ E SUKHAN

اس محبت کی میاں ترسیل ہونی چاہئے

اس محبت کی میاں ترسیل ہونی چاہئے
زندگی پھر سے نئی تشکیل ہونی چاہئے

یار کی صورت نظر آئے نہ جس دن دوستو
پیر منگل ہو یا کچھ تعطیل ہونی چاہئے

عشق کے اس فلسفے کی باوضو تحریر کی
وقت کے ہاتھوں یہاں تکمیل ہونی چاہئے

رنج و غم کو قید کرنے کے لئے دامانِ دل
اے مرے مولا حسیں زنبیل ہونی چاہئے

عام ہو جائے محبت عام ہو جائے یہاں
حکمِ منصوری کی اب تعمیل ہونی چاہئے

منصور سحر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم