MOJ E SUKHAN
No Record Found
حضرت ابوہریرہ سے بلّی نہ چھٹ سکیخواجہ حسن نظامی سے دلّی نہ چھٹ سکی
خواجہ حسن نظامی
ہوائیں اس گلی سے آ رہی ہیں
در و دیوار پہ شکلیں سی بنانے آئی
عشق تجھ کو کبھی ہُوا ہی نہیں
لمحوں کا پتھراؤ ہے مجھ پر صدیوں کی یلغار
اے جنوں ہاتھ کے چلتے ہی مچل جاؤں گا
جو تھے اڑان پہ طائر وہی شکار ہوئے
وہ میرا دوست ہے اور مجھ سے واسطہ بھی نہیں
چار سُو ہے بڑی وحشت کا سماں
نارسائی کی تھکن میں اک سفر میں نے کیا
آتش دلِ زار میں لگائی اس نے رباعی
تھا ہم سے بھی ربط یا کہ نہ تھا
جب سے وہ گئے ادھرنہیں یاد کیا رباعی
یہ حکم خدا کا کہ قطرہ مے کا نہ پیوں – Ye
مومن لازم ہے وضع مرغوب بنے
رباعیات حکیم عمر خیام نیشا پوری
کیا تیری جدائی میں ستم دیکھتے ہیں رباعی امیر مینائی
غائب بہت اے جان جہاں رہتے ہو رباعی امیر مینائی
باغوں میں جو قمریاں ہیں سب مٹی ہیں رباعی قلندر
سب ستارے لٹا دیۓ میں نے
ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں
ہوائے تیز ترا ایک کام آخری ہے
اک چراغِ آرزو پھر سے جلانا ہے مجھے
عشق جب تک جان و دل کا رہنما ہوتا نہیں
رازداں ہم نے بنایا آپ کو
جرم الفت کی سزا دینے لگے
از رہِ التفات بنتی ہے
میں نے تو درد کو سینے میں چھپا رکھا ہے
سنو اے باوفا لڑکے
تمہاری خاطر نقاب اوڑھوں نہ گھر سے نکلوں
تیرے جانے سے کچھ نہیں بدلا
ہو نے سر جو بدلا ہے
ادھر ادھر کی نہ تم سنانا بچھڑنے والے بتا کے جانا
آجکل دل کا عجب حال ہوا ہے جاناں
جا ترے بس میں نہیں یار محبت کرنا
نظم ہونے لگی
سنو میں مان لوں کیسے تمہیں مجھ سے محبت ہے