MOJ E SUKHAN

وہ دن گئے کہ چھپ کے سر بام آئیں گے

وہ دن گئے کہ چھپ کے سر بام آئیں گے
آنا ہوا تو اب وہ سر عام آئیں گے

سوچا نہ تھا کہ ابر سیہ پوش سے کبھی
کوندے تیرے بدن کے مرے نام آئیں گے

اس نخل نا مراد سے جو پات جھڑ گئے
اندھی خنک ہواؤں کے اب کام آئیں گے

آنسو ستارے اوس کے دانے سفید پھول
سب میرے غم گسار سر شام آئیں گے

رکھ تو انہیں بچا کے کسی اور کے لیے
یہ قول یہ قرار ترے کام آئیں گے

لوٹے اگر سفر سے کبھی ہم تو ڈر نہیں
صورت بدل کے آئیں گے بے نام آئیں گے

وزیر آغا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم