MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

مرے بھی سرخ رو ہونے کا اک موقع نکل آتا

مرے بھی سرخ رو ہونے کا اک موقع نکل آتا
غم جاناں کے ملبے سے غم دنیا نکل آتا

یہ مانا میں تھکا ہارا مسافر ہوں مگر پھر بھی
تمہارے ساتھ چلنے کا کوئی رستہ نکل آتا

تری یادوں کی پتھریلی زمیں شاداب ہو جاتی
اگر آنکھوں کے صحرا سے کوئی دریا نکل آتا

چلو اچھا ہوا ٹھہرا نہ وہ بھی آخر شب تک
کہ اس کے بعد تو پھر صبح کا تارا نکل آتا

کہاں بے تاب رکھ سکتا تھا پھر احساس محرومی
دیار غیر میں تم سا کوئی اپنا نکل آتا

ردائے آگہی کے بوجھ نے خم کر دیا ورنہ
ہمارا قد بھی پھر تم سے بہت اونچا نکل آتا

یوسف تقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم