MOJ E SUKHAN

رواں ہے قافلۂ جستجو کدھر میرا

رواں ہے قافلۂ جستجو کدھر میرا
کوئی سمجھ نہ سکا مقصد سفر میرا

سکون روح ملا حلقۂ رسن میں مجھے
وگرنہ بار گراں تھا بدن پہ سر میرا

میں اپنے ہاتھ کے چھالے دکھاتا پھرتا ہوں
دلائے کوئی مجھے حصۂ ثمر میرا

ہر اک شجر ہے مرا یوں تو سارے جنگل میں
عجب ستم ہے نہیں سایۂ شجر میرا

کہو یہ ابر سے کیا فائدہ برسنے کا
کہ اب تو جل بھی چکا ہے تمام گھر میرا

اسی لیے مری منزل نہ مل سکی مجھ کو
کہ میرے ساتھ اک رہزن تھا ہم سفر میرا

اسد جعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم