MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کوئی دل جوئی نہیں تھی کوئی شنوائی نہ تھی

کوئی دل جوئی نہیں تھی کوئی شنوائی نہ تھی
جیسے اہل شہر سے میری شناسائی نہ تھی

مجھ کو اک چپ چاپ سے چہرے نے زخمی کر دیا
میں نے ایسی چوٹ ساری زندگی کھائی نہ تھی

غور سے دیکھیں تو ہے یادوں کے رنگوں کا کمال
اس قدر دل کش کبھی تصویر تنہائی نہ تھی

کر دیا جس نے مجھے پھر زندگی سے ہمکنار
تھا مرا ذوق یقیں تیری مسیحائی نہ تھی

باغباں کی اک ذرا سی لغزش ترتیب سے
موسم گل تھا مگر گلشن میں رعنائی نہ تھی

جن سے تھی انصاف کی امید اہل درد کو
غور سے دیکھا تو ان آنکھوں میں بینائی نہ تھی

نا خدا مجھ کو اپاہج کر گیا ورنہ اسدؔ
آسماں اونچا نہ تھا دریا میں گہرائی نہ تھی

اسد جعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم