MOJ E SUKHAN

ملال ہجر نہیں رنج بے رخی بھی نہیں

ملال ہجر نہیں رنج بے رخی بھی نہیں
کہ اعتبار کے قابل تو زندگی بھی نہیں

کروں میں خون تمنا کا کس لیے ماتم
مرے لیے یہ مصیبت کوئی نئی بھی نہیں

میں پھر بھی شام و سحر بے قرار رہتا ہوں
اگرچہ گھر میں کسی چیز کی کمی بھی نہیں

مجھے خبر ہے کہ انجام وصل کیا ہوگا
اسی لیے ترے ملنے کی کچھ خوشی بھی نہیں

وہی ہے سب کی نگاہوں کی طنز کا مرکز
وہ جس مکان کی کھڑکی کبھی کھلی بھی نہیں

ہوئے وہ لوگ ہی شب کے سفر پہ آمادہوہ جن
کے پاس اسد کوئی روشنی بھی نہیں

اسد جعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم