MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

صرف کہنے کو کوئی عظمت نشاں بنتا نہیں

صرف کہنے کو کوئی عظمت نشاں بنتا نہیں
چند قطروں سے تو بحر بیکراں بنتا نہیں

چار چھ پھولوں سے اپنے گھر کا گلدستہ سجا
چار چھ پھولوں سے ہرگز گلستاں بنتا نہیں

کارواں کا پاس ہے تجھ کو تو پانی پر نہ چل
یہ وہ جادہ ہے جہاں کوئی نشاں بنتا نہیں

بے سر و ساماں پرندو کاش تم یہ سوچتے
کون سی شاخیں ہیں جن پر آشیاں بنتا نہیں

کس قدر نا قابل ادراک ہے میری زباں
کوئی اس بستی میں میرا ہم زباں بنتا نہیں

اسد جعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم