MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دریچوں میں چراغوں کی کمی محسوس ہوتی ہے

دریچوں میں چراغوں کی کمی محسوس ہوتی ہے
یہاں تو پھر ہوا کی برہمی محسوس ہوتی ہے

وہ اب بھی گفتگو کرتا ہے پہلے کی طرح لیکن
ذرا سی برف لہجے میں جمی محسوس ہوتی ہے

ترے وعدے کا سایہ ہو تو صحرا کے سفر میں بھی
جھلستی لو ہوائے شبنمی محسوس ہوتی ہے

تو کیا میں ضبط کے معیار پر پورا نہیں اترا
تو کیا میری ان آنکھوں میں نمی محسوس ہوتی ہے

نہ جانے تیری حالت کیا ہے اس کو دیکھ کر اظہرؔ
مجھے تو دل کی دھڑکن بھی تھمی محسوس ہوتی ہے

اظہر ادیب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم