MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

بیٹھا ہوں وقف ماتم ہستی مٹا ہوا

بیٹھا ہوں وقف ماتم ہستی مٹا ہوا
زہر وفا ہے گھر کی فضا میں گھلا ہوا

خود اس کے پاس جاؤں نہ اس کو بلاؤں پاس
پایا ہے وہ مزاج کہ جینا بلا ہوا

اس پر غلط ہے عشق میں الزام دشمنی
قاتل ہے میرے حجلۂ‌‌ جاں میں چھپا ہوا

ہیں جسم و جاں بہم یہ مگر کس کو ہے خبر
کس کس جگہ سے دامن دل ہے سلا ہوا

ہے راہوار شوق پہ آسیب بے دلی
رکھا ہے کب سے سامنے ساغر بھرا ہوا

حاصل ہے جس کو عرشؔ فضاؤں میں اختیار
وہ دل کے ساتھ کھیل رہا ہے تو کیا ہوا

عرش صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم