MOJ E SUKHAN

چاندنی رات میں بلاؤں تجھے

چاندنی رات میں بلاؤں تجھے
دھڑکنیں دل کی میں سناؤں تجھے

تیرے پہلو میں رکھ کہ دل اپنا
چاند راتوں میں گنگناؤں تجھے

کچھ کہے ان کہے سوال کروں
اور یوں پھر سے آزماؤں تجھے

اپنی ہستی کو بھول سکتی ہوں
کیسے ممکن ہے بھول جاؤں تجھے

آنسوؤں کی تپش میں جلتی ہوں
کاش اس میں کبھی جلاؤں تجھے

بینا گوئندی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم