MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جسے نظروں کی صورت اپنی آنکھوں میں بسایا تھا

جسے نظروں کی صورت اپنی آنکھوں میں بسایا تھا
اسی اک خواب نے ہر موڑ پر مجھ کو رلایا تھا

ترے اک قہقہے نے جس کو اک پل میں گرا ڈالا
گھروندا وہ تو میں نے اپنے اشکوں سے بنایا تھا

خوشی سے اڑتے اڑتے آ گئے اس شاخ پر بھونرے
جہاں کانٹوں نے اس کی موت کا ساماں سجایا تھا

ستارا یہ زمیں بھی آسماں کا ایک ٹکڑا ہے
جسے روز ازل شاید خدا نے آزمایا تھا

میرے ہونٹوں پہ بیناؔ مسکراہٹ یوں مچلتی تھی
کہ میں نے حسرتوں کو اپنے شعروں میں چھپایا تھا

بینا گوئندی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم