MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وہ جو ایک چہرہ دمک رہا ہے جمال سے

وہ جو ایک چہرہ دمک رہا ہے جمال سے
اسے مل رہی ہے خوشی کسی کے خیال سے

میں نے صرف ایک ہی دائرے میں سفر کیا
کبھی بے نیاز بھی کر مجھے مہ و سال سے

کبھی ہنس کے خود ہی گلے سے اس کو لگا لیا
کبھی رو دیے ہیں لپٹ کے خود ہی ملال سے

تجھے کیا خبر کہ وہ کون ہے سر رہ گزر
کبھی سرسری نہ گزر کسی کے سوال سے

وہ جو مسکرا کے گزر رہا ہے قریب سے
اسے آشنائی ضرور ہے میرے حال سے

مجھے آسرا بھی نہیں کسی کی دعاؤں کا
مجھے خوف آتا ہے یوں بھی وقت زوال سے

یشبؔ اپنے آپ سے مل کے کتنا بھلا لگا
مجھے فرصتیں ہی نہیں ملیں کئی سال سے

یشب تمنا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم