MOJ E SUKHAN

سلگ اٹھی ہے کوئی آگ سی ہواؤں میں

سلگ اٹھی ہے کوئی آگ سی ہواؤں میں
بدل گئی ہیں بہاریں مری خزاؤں میں

نہ آئی راس بناوٹ کی زندگی مجھ کو
میں شہر چھوڑ کے پھر آ گیا ہوں گاؤں میں

قدم قدم پہ نیا اک خدا نظر آیا
نہ جانے کون سا برحق ہے ان خداؤں میں

کوئی امید کی بارش کا اہتمام کرو
میں جل رہا ہوں غم و یاس کی چتاؤں میں

بہت کڑا ہے محبت کے راستوں کا سفر
جفا کی دھوپ چھپی ہے وفا کی چھاؤں میں

جلیل عالی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم