MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

نور کی کرن اس سے خود نکلتی رہتی ہے

نور کی کرن اس سے خود نکلتی رہتی ہے
وقت کٹتا رہتا ہے رات ڈھلتی رہتی ہے

اور ذکر کیا کیجے اپنے دل کی حالت کا
کچھ بگڑتی رہتی ہے کچھ سنبھلتی رہتی ہے

ذہن ابھارتا ہے نقش حال و ماضی کے
ان دنوں طبیعت کچھ یوں بہلتی رہتی ہے

تہہ نشین موجیں تو پر سکون رہتی ہیں
اور سطح دریا کی موج اچھلتی رہتی ہے

چاہے اپنے غم کی ہو یا غم زمانہ کی
بات تو بہر صورت کچھ نکلتی رہتی ہے

زندگی ہے نام اس کا تازگی ہے کام اس کا
ایک موج خوں دل سے جو ابلتی رہتی ہے

کیف بھی ہے مستی بھی زہر بھی ہے امرت بھی
وہ جو جام ساقی سے روز ڈھلتی رہتی ہے

آج بھی بری کیا ہے کل بھی یہ بری کیا تھی
اس کا نام دنیا ہے یہ بدلتی رہتی ہے

ہوتی ہے وہ شعروں میں منعکس کبھی اعجازؔ
مدتوں گھٹن سی جو دل میں پلتی رہتی ہے

اعجاز صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم