MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

سفر کٹھن ہی سہی کیا عجب تھا ساتھ اس کا

سفر کٹھن ہی سہی کیا عجب تھا ساتھ اس کا
اندھیری رات میں میرا دیا تھا ہاتھ اس کا

کچھ ایسی نیند سے جاگی کہ پھر نہ سوئی وہ آنکھ
جلا کیا یوں ہی کاجل تمام رات اس کا

تمام شب وہ ستاروں سے گفتگو اس کی
تمام شب وہ سمندر سا التفات اس کا

کبھی وہ ربط کہ آنکھوں میں جس طرح کاجل
کبھی بچھڑ کے وہ ملنا غزل صفات اس کا

دعا کے ہاتھ ہی جیسے دیا سنبھالتے ہیں
محبتوں میں وہ اسلوب احتیاط اس کا

میں اپنے گھر کے اندھیروں میں لوٹ آیا شوقؔ
پکارتا ہی رہا مجھ کو شہر ذات اس کا

رضی اختر شوق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم