وہ جو خاموش ہے سہما ہوا لگتا ہے مجھے
جانے کیا بات ہے بدلا ہو لگتا ہے مجھے
چھوڑ کے سب کو میرے پاس وہ آ بیٹھا مگر
پیار کرتے ہوۓ ڈرتا ہوا لگتا ہے مجھے
اُس کی سانسوں میں تپش ہے نا حرارت کوئ
پھر بھی اک آگ میں جلتا ہؤا لگتا ہے مجھے
ایک مدت ہوئ ہجراں کی نہیں آگ جلی
پھر بھی دلِ اپنا جُھلستا ہؤا لگتا ہے مجھے
بھُول بیٹھی ہوں زمانے سے مگر یادوں میں
دِل ترنّم کا مچلتا ہوا لگتا ہے مجھے
ترنم شبیر