MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

میں دیار قاتلاں کا ایک تنہا اجنبی

میں دیار قاتلاں کا ایک تنہا اجنبی
ڈھونڈھنے نکلا ہوں خود اپنے ہی جیسا اجنبی

آشناؤں سے سوال آشنائی کر کے دیکھ
پھر پتہ چل جائے گا ہے کون کتنا اجنبی

ڈوبتے ملاح تنکوں سے مدد مانگا کیے
کشتیاں ڈوبیں تو تھی ہر موج دریا اجنبی

مل جو مجھ کو عافیت کی بھیک دینے آئے تھے
کس سے پوچھوں کون تھے وہ آشنا یا اجنبی

بے مروت شہریوں نے فاصلے کم کر دیے
ورنہ پہلے شہر کو لگتا تھا صحرا اجنبی

یہ منافق روپ کب سے میری عادت بن گیا
میرے چہرے سے ہے کیوں میرا سراپا اجنبی

علامہ طالب جوہری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم