MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

آج جلتی ہوئی ہر شمع بجھا دی جائے

آج جلتی ہوئی ہر شمع بجھا دی جائے
غم کی توقیر ذرا اور بڑھا دی جائے

کیا اسی واسطے سینچا تھا لہو سے اپنے
جب سنور جائے چمن آگ لگا دی جائے

عقل کا حکم کہ ساحل سے لگا دو کشتی
دل کا اصرار کہ طوفاں سے لڑا دی جائے

دور تک دل میں دکھائی نہیں دیتا کوئی
ایسے ویرانے میں اب کس کو صدا دی جائے

تبصرہ بعد میں بھی قتل پہ ہو سکتا ہے
پہلے یہ لاش تو رستے سے ہٹا دی جائے

مصلحت اب تو اسی میں نظر آتی ہے علیؔ
کہ ہنسی آئے تو اشکوں میں بہا دی جائے

علی احمد جلیلی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم