MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وہ چراغ زیست بن کر راہ میں جلتا رہا

وہ چراغ زیست بن کر راہ میں جلتا رہا
ہاتھ میں وہ ہاتھ لے کر عمر بھر چلتا رہا

ایک آنسو یاد کا ٹپکا تو دریا بن گیا
زندگی بھر مجھ میں ایک طوفان سا پلتا رہا

جانتی ہوں اب اسے میں پا نہیں سکتی مگر
ہر جگہ سائے کی صورت ساتھ کیوں چلتا رہا

جو میری نظروں سے اوجھل ہو چکا مدت ہوئی
وہ خیالوں میں بسا اور شعر میں ڈھلتا رہا

رنج تھا گلنارؔ مجھ کو اس کو بھی افسوس تھا
دیر تک روتا رہا اور ہاتھ بھی ملتا رہا

گلنار آفرین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم