MOJ E SUKHAN

خامشی کی نگاہ میں رہئیے

خامشی کی نگاہ میں رہئیے
زندگی کی نگاہ میں رہئیے

مل ہی جاٸے گی روشنی اک دن
تیرگی کی نگاہ میں رہٸیے

جانے کب ہو قبولیت کی گھڑی
عاشقی کی نگاہ میں رہٸیے

بس میں کرنا ہے گر یہ عالمِ حسن
بے بسی کی نگاہ میں رہٸیے

جانتی ہوں ! تُو فکر کا ہے دھنی
آگہی کی نگاہ میں رہٸیے

ہے یہی تیرا حسن اے لڑکی
سادگی کی نگاہ میں رہٸیے

آدمیت کا پہلا زینہ ہے
آدمی کی نگاہ میں رہٸیے

عاجزی چاہتی ہو گر تم بھی
سرکشی کی نگاہ میں رہٸیے

مدیحہ شوق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم