MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

راز کا بزم میں چرچا کبھی ہونے نہ دیا

راز کا بزم میں چرچا کبھی ہونے نہ دیا
ہم نے اپنے کو تماشا کبھی ہونے نہ دیا

ہم کو اس گردش دوراں نے کہیں کا نہ رکھا
پھر بھی لہجے کو شکستہ کبھی ہونے نہ دیا

مے کدے میں بڑے کم ظرف تھے پینے والے
آنکھ کو ساغر و مینا کبھی ہونے نہ دیا

دل میں اک درد کا طوفان چھپائے رکھا
آنکھ سے راز کو افشا کبھی ہونے نہ دیا

روز جلنا ہے اسے روز جلانا ہے اسے
آتش شوق کو ٹھنڈا کبھی ہونے نہ دیا

عمر رشتوں کے تقاضے ہی نبھاتے گزری
زندگی نے مجھے اپنا کبھی ہونے نہ دیا

سب سے محفوظ مقام غم تنہائی ہے
فکر دنیا نے اکیلا کبھی ہونے نہ دیا

تسنیم عابدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم