MOJ E SUKHAN

سلیقہ عشق میں میرا بڑے کمال کا تھا

سلیقہ عشق میں میرا بڑے کمال کا تھا
کہ اختیار بھی دل پر عجب مثال کا تھا

میں اپنے نقش بناتی تھی جس میں بچپن سے
وہ آئینہ تو کسی اور خط و خال کا تھا

رفو میں کرتی رہی پیرہن کو اور ادھر
گماں اسے مرے زخموں کے اندمال کا تھا

یہ اور بات کہ اب چشم پوش ہو جائے
کبھی تو علم اسے بھی ہمارے حال کا تھا

محبتوں میں میں قائل تھی لب نہ کھلنے کی
جواب ورنہ مرے پاس ہر سوال کا تھا

درخت جڑ سے اکھڑنے کے موسموں میں بھی
ہوا کا پیار شجر سے عجب کمال کا تھا

کتاب کس کی مسافت کی لکھ رہی ہے ہوا
یہ قرض اس کی طرف کس کے ماہ و سال کا تھا

شاہدہ حسن

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم