ہم اَگر دُھوپ کی وِیرانی میں سائے بَنتے
پھر کہاں وحشتِ صحرا کے فسانے بنتے
رونقِّ شہر بنے بیٹھے ہو خوش پوش بھی ہو
یوں تمہارے تو نہیں عشق میں نخرے بنتے
تیری آنکھوں میں اگر درد کا ساماں ہوتا
خشک دریاؤں کی حیرت کے بھی پشتے بنتے
مجھ کو اِن اُونچے سَتونوں پہ بھروسہ ہی نہیں
میں نے دیکھا ہے محلَّات کو مَلبے بنتے
روح اور جِسم فَقَط وَہم کا خمیازہ ہے
ہم پرندوں کو دِکھائے گئے پنجرے بنتے
آپ نے خوب کہا خود کو اُجالوں کا سَفیر
آپ کے گھر میں ہی دیکھے ہیں اَندھیرے بنتے
ہِجر کے کتبے جِنہیں کائی نگل جاتی ہے
حادثے کیسے وہاں ماتمی قصے بنتے
اِتنے غم ہم نے اُٹھائے ہیں کہ کہُساروں پر
اِن سے آدھے بھی اُترتے تو وہ ذرّے بنتے
جس کو دیکھو وہ مُقیَّد ہے فصیلِ غم میں
کوئی دیوار گراتا تو ہی رستے بنتے
میں جو ناکامی ءِ حسرت کا نہ مجرم ہوتا
آرزوؤں کی ندامت کے ترانے بنتے
کاش بپھری ہوئی لہروں کو یہ سمجھائے کوئی
کس اَذَّیت سے ہیں چھوٹے سے گھروندے بنتے
پچھلے لوگوں نے کھُلے صحن میں دِن رات کیے
پیڑ کٹنے سے ہی دالان میں کمرے بنتے
تالیاں پیٹنے والوں کو بتاؤ دانش
عمر لگ جاتی ہے فنکار کو بنتے بنتے
دانش عزیز