دِیے کی نسل سے ہوں تیرگی نہ جان مجھے
بُجھا ہوا ہوں مگر روشنی تو مان مجھے
اُسے سنا کے میں خاموش ہوگیا ایسا
صدا کو ترسے ہوئے،کوستے ہیں کان مجھے
جب ایک پھول سی بچی نے ہاتھ پھیلایا
بُری لگی تھی بہت اپنی آن بان مجھے
میں آپ اپنی بنائی فضا میں جیتا ہوں
قبول کر نہیں سکتا ہے خاندان مجھے
اُڑان بھرتے پرندوں کی قید کا سوچا
لگانی آگئی دھاگے میں جب گٹھان مجھے
یہاں کسی کو کسی کی سمجھ نہیں آتی
سمجھنے والے سمجھتے رہیں چٹان مجھے
نہ جانے کون سے دُکھ میں ہے مبتلا بابر
کہ اپنے آپ سے لگتا ہے بدگمان مجھے
فیض عالم بابر