MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دیئے منڈیروں کے روشن قطار ہونے لگے

دیئے منڈیروں کے روشن قطار ہونے لگے
لویں تراشنے والے فرار ہونے لگے

دبیز پردوں پہ مانوس لہریں اٹھنے لگی
ہوا کے ہاتھ دریچوں سے پار ہونے لگے

عدو بھی بھرنے لگے دم تری رفاقت کا
اب ایسے ویسے تماشے بھی یار ہونے لگے

اب آنے والی کسی رت کا انتظار ہو کیا
جڑوں سے اپنی شجر داغ دار ہونے لگے

فلک کے پرزے اب اڑنے میں کوئی دیر نہیں
پہاڑ سرکے زمینوں میں غار ہونے لگے

کھلا محاذ تو ہوگی ہماری پسپائی
ہم اپنے خوف دروں کا شکار ہونے لگے

سفر ہے سخت بہت سخت اگلے موڑ کے بعد
چمک رہے تھے جو منظر غبار ہونے لگے

نہ کوئی موج تماشا نہ عکس حیرت رمزؔ
ہمارے آئینے بے اعتبار ہونے لگے

محمد احمد رمز

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم