MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

لوگ تو اک منظر ہیں تخت نشینوں کی خاطر

لوگ تو اک منظر ہیں تخت نشینوں کی خاطر
فرش بچھایا جاتا ہے قالینوں کی خاطر

کتنی بے ترتیبی پھیلی کیا کچھ ٹوٹ گیا
سجے سجائے گھر تھے انہی مکینوں کی خاطر

ٹھہر گئے ہیں عین سفر میں بن سوچے سمجھے
ہم سفری کے کچھ بے نام قرینوں کی خاطر

جل بجھتے ہیں لوگ کسی کو فیض پہنچنے پر
گر جاتے ہیں کچھ بے معنی زینوں کی خاطر

ہم اور تم جو بدل گئے تو اتنی حیرت کیا
عکس بدلتے رہتے ہیں آئینوں کی خاطر

اونچے دام لگے ہیں حمیراؔ کورے جذبوں کے
سودا برا نہیں ہے چند مشینوں کی خاطر

حمیرہ رحمان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم