MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

نفس نفس ہے ترے غم سے چور چور اب تک

نفس نفس ہے ترے غم سے چور چور اب تک
نہ شام ہے نہ سویرا قریب دور اب تک

سنی سنائی پہ مت جا ذرا قریب تو آ
سزا نہ دے کہ محبت ہے بے قصور اب تک

مچل رہی ہے کہیں جوئے شیر اے فرہاد
کلیم سن تو سہی جل رہا ہے طور اب تک

مرے خدا میں کہاں جاؤں کس طرح ڈھونڈوں
مجھے پکار رہا ہے کوئی ضرور اب تک

نہ تو مرا نہ تری ہم نشینیاں میری
بھرم ہے جس کو سمجھتے ہیں سب غرور اب تک

ادھر وفور محبت ادھر مروت تھی
جو کچھ کہا تھا بھلا دے ترے حضور اب تک

چلا گیا ہے مکیں چھوڑ کر مکاں اپنا
کوئی نہیں ہے مگر چھن رہا ہے نور اب تک

وہ ایک حادثۂ روح و دل کہ بیت گیا
جسے نہ مان سکا شاذؔ کا شعور اب تک

شاذ تمکنت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم