MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

راز کہاں تک راز رہے گا منظرِ عام پہ آئے گا – Raaz kaha tak raaz rahega manzar e aam pe ayega

راز کہاں تک راز رہے گا منظرِ عام پہ آئے گا
جی کا داغ اُجاگر ہو کر سورج کو شرمائے گا

شہروں کو ویران کرے گا اپنے آنچ کی تیزی سے
ویرانوں میں مست البیلے وحشی پُھول کھلائے گا

ہاں یہی شخص گداز و نازک ، ہونٹوں پر مسکان لیے
اے دل اپنے ہاتھ لگاتے پتھر کا بن جائے گا

دیدہ و دل نے درد کی اپنے بات بھی کی تو کس سے کی
وہ تو درد کا بانی ٹھہرا وہ کیا درد بٹائے گا

تیرا نور ظہور سلامت ، اک دن تجھ پر ماہِ تمام
چاند نگر کا رہنے والا چاند نگر لکھ جائے گا ​

ابنِ انشا​

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم