سرمئی شام کی تلاش میں ہوں
ایک گُل فام کی تلاش میں ہوں
سفَرِ ہجر نے تھکا دیا ہے
کوچہ و بام کی تلاش میں ہوں
خاص لوگوں سے اب نہیں بنتی
اس لیے عام کی تلاش میں ہوں
خواب میں آنکھ اس کو دیکھ چکی
اب فقط نام کی تلاش میں ہوں
عشق تو کب کا ہو چکا تسنیم
صرف انجام کی تلاش میں ہوں
تسنیم بخاری